تعارف


ہماری تاریخ


سر زمین ہند سے انگریزوں کے ہاتھ مسلمانوں کے عہد ساز اور پر شکوہ حکومت کے خاتمہ کے بعد نہ یہ کہ مسلمانوں کی صرف شان و شوکت اور قوت و طاقت متزلزل ہوئی بلکہ اسلام کی ضیاء پاش کرنوں کو بھی گہن لگنے لگا، کیونکہ مغربی الحاد اور یورپین دہریت کی تیز و تند بادِصر صر ہر طرف چلتی دکھائی دینے لگی تھی، مذہبی تقیدات سے تنفر، روحانی معارج سے اجنبیت، آزاد خیالی کا جادو اور مادیت پرستی کے عشق نے دلوں اور دماغوں کو مسخر کر لیا، کم و بیش چاروں طرف بے دینی کی آندھی چلنے لگی، طوائف الملکی اور ڈیڑھ صدی کی بے امنی نے جہالت و تاریکی کا ایک ایسا گھنگور گھٹا پھیلا دیا کہ کہیں سے الحادوزندقہ کے بگولے اٹھے تو کہیں سے نیچریت اور عیسائیت کی زہریلی گیس نمودار ہوئی، کہیں سے عدمِ تقلید کی وبائیں پھیلیں تو کہیں سے بدعت و شرک کی پلیگ رونما ہوئی ، کہیں سے مذہب کے خلاف علم نصب کیا گیا تو کہیں سے اختراعاتِ مذہبیہ کی نئی نئی رنگین جھنڈیاں دکھائی گئیں، کہیں سے علمِ باطن کے خلاف آوازیں کسے گئے تو کہیں سے شریعت اور علمِ ظاہری پر گولہ اندازی کی گئی، غرض کہ مغربی تسلط نے نہ صرف اسلامی سیاستِ ہندکو تہہ و بالا کیا؛ بلکہ مسلمانوں کے دین و عقائد، ایمان و یقین اور تاریخ و روایت تک کو مٹانے کے درپئے ہو گیا۔

اس روزافزوں فتنوں نے اہل اللہ کے ہوش و حواس باختہ کردیئے، ان کو صاف دکھائی دینے لگا کہ اگر اس وقت تھوڑی سی بھی غفلت برتی گئی تو حکومتِ اسلامیہ کی طرح مذہبِ اسلام اور صحیح عقیدہ و عمل بھی بہت ہی جلد ہندوستان سے رخصت ہو جائے گا، اور کچھ عجب نہیں کے ہندوستان دنیا کا دوسرا اندلس بن جائے ۔چنانچہ فعال علمائے کرام اور مخلص رجالِ کار میدان میں آئے، اور اسلام کے تحفظ کی خاطر مختلف الجہات کوششیں شروع کردیں، ان عظیم کو ششوں میں سے ایک کوشش امارتِ شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کا قیام بھی ہے جسے ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے قائم کرکے مسلمانانِ ہند خصوصاً بہارو اڑیسہ و جھارکھنڈکے مسلمانوں کو اس غیر مسلم اکثریت والے ملک میں امکانی حد تک شریعت کے احکام پر عمل کرنے کی ایک نئی راہ دکھائی۔ طلاق، خلع، تقسیم میراث وغیرہ جیسے حساس اسلامی مسائل کے حل کرنے کا ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کی۔ اور الحمدللہ شروع ہی یہ ادارہ اپنے مشن و مقصد میں ایک حد تک کامیاب ہوتا ہوا نظر آرہاہے۔ بہت دنوں سے اکابرِامارت خصوصاًامیرِشریعت رابع حضرت مولانا سید محمد منت اللہ رحمانی رحمتہ اللہ علیہ کی شدید خواہش تھی کہ ہمارے بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں امارتِ شرعیہ کے پلیٹ فارم سے ایک عظیم معیاری دینی، تعلیمی درس گاہ قائم کیا جانا چاہئے جس میں عا لمیت و فضیلت اور تخصصات تک کی معیاری تعلیم اور بہترین تربیت کا نظم و نسق ہو؛ تاکہ اس سے مخلص علماء کرام کی ایسی جماعت تیار ہو جو کہ مسلمانوں کے مذہب کی صحیح اور واقعی رہنمائی کرتی ہو، اور وہ مذہب اہلِ سنت و الجماعت کا محافظ بھی ہو، اس کا تعلق صرف مغربی علوم والسنتہ اور فنونِ اجنبیہ سے نہ ہو بلکہ علوم عصر یہ کی ایک ناگزیر حد کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کا بحربیکراں ہو، وہ اپنے علم و عمل کے ذریعہ مسلمانوں میں اتباع شریعت کی اسپریٹ اور تخلق باخلاقِ نبویہ کا شراب طہور پیدا کرنے کی اعلیٰ ذمہ د اری کو بخوبی انجام دے سکے۔

لیکن حضرت کا یہ خواب ان کی زندگی میں پورا نہ ہو سکا ؛ مگر ان کے بعد ان کے دونوں رفیقِ کار اور ان کے افکارو نظریات کے پاسدار حضرت مولانا سید نظام الدیں صاحب اور حضرت قاضی القضاۃمولانا مجاہد الاسلام قاسمی صاحب نے ۲۱ ؍شوال المکرم ۱۴۲۰ھ مطابق ۲۸ ؍جنوری ۲۰۰۰ء سو قاضی نگر کی مسجد ’’ام خالد الفرہود‘‘ میں نورالایضاح کا درس دے کرکے ’’دارالعلوم الاسلامیہ‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کرکے حضرت کے خوابوں کے پورا کرنے کی سعی مشکور کی۔ پہلے سال صرف تین درجے: اعدادیہ، عربی اول اور عربی دوم تھے اور طلبہ کی مجموعی تعداد پچیس(۲۵) تھی دوسرے سال درجہ عربی سوم کا اضافہ ہوا اور دارالاقامہ میں رہنے والے طلبہ کی تعداد پچاس (۵۰) ہو گئی یعنی پہلے کے دوگنا، تیسرے سال عربی چہارم کا اضافہ ہو اور اکثر طلبہ کے قیام و طعام کا نظم من جانب ادارہ رہا، چوتھے سال کسی درجہ کا اضافہ تو نہیں ہوا؛ لیکن طلبہ کی تعداد پچاسی(۸۵) ہوئی، پانچویں سال ایک درجہ عربی پنجم کا اضافہ ہوا اور طلبہ کی تعداد ایک سو آٹھ (۱۰۸) ہوئی، چھٹے سال میں کسی درجہ کا اضافہ تو نہیں ہوا؛ لیکن طلبہ کی تعداد ایک سو چودہ(۱۱۴) ہوئی۔ ان چھ سالوں تک یہ دارالعلوم کرایہ کے مکان میں چلتا رہا، جس کے لیے تین مکانات کرایہ پر حاصل کئے گئے تھے، طلبہ و اساتذہ ان چھ سالوں میں تمام تر صعوبتوں کو صبر و استقامت کے ساتھ جھیل کر تعلیم و تعلم میں مشغول رہے۔

یہاں تک کہ دارالعلوم الاسمامیہ کی اپنی زمین جو کہ گون پورہ میں مرحوم احمد رضا خان بانی رضا ہائی اسکول کے تعاون سے خریدی گئی تھی اس پر ۳؍ربیع الاول ۱۴۲۶ ھ مطابق ۱۳؍اپریل ۲۰۰۵ روز بدھ کو حضرت امیرِشریعت رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک سے دارالعلوم الاسلامیہ کی عمارت کی بنیاد پڑی اور تقریباًدس ہزار اسکوائر فٹ زمین پر کام شروع ہوا اور مؤرخہ ۲۰ ؍محرم الحرام ۱۴۲۷ ھ مطابق۲۰۰۶ ء روز اتوار کو اس نئی عمارت کا شاندار افتتاح ہوا، اس موقع سے ایک عظیم الشان اجلاسِ عام کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں ملک کے مشاہیر علماء و مشائخ نے حاضرین کے ایک جمِ غفیر سے خطاب کیا اور پورے بہار ، بالخصوص پٹنہ کے مخلصین و اصحاب خیر کی ایک بڑی جماعت جگہ کی دوری کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوئی اور اجلاس ہر لحاظ سے کامیاب رہا۔

نئی عمارت کے افتتاح کے بعد نئے ماحول میں عزم و حوصلہ کے ساتھ دارالعلوم الاسلامیہ کی تعلیمی و تربیتی سفر شروع ہوا، اور امسال ایک درجہ، درجۂ حفظ و ناظرہ اور درجۂ عربی ششم کا اضافہ ہوا، اس وقت طلبہ کی تعداد ایک سو سرسٹھ (۱۶۷) تھی، آٹھویں سال میں پھر ایک درجہ عربی ہفتم کا اضافہ ہوا، نویں سال میں کسی درجہ کا اضافہ نہیں ہوا؛ لیکن دسویں سال میں نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ دورۂ حدیث شریف کا قیام عمل میں آیا اور الحمدللہ اس وقت سے لے کر تاہنوز یہ ادارہ غیر معمولی اور ہمہ جہت ترقیات کے منازل کو طے کر رہا ہے جس کا اندازہ طلبہ کی روزافزوں تعداد اور ان کی بے پناہ رغبت سے کیا جا سکتا ہے، یہاں پر بہترین تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقِ فاضلہ کے زیور سے طلبہء عزیز کو آراستہ کرنے کے لیے صبح و شام اور شب و روز کے لیے ایک نظام ترتیب دیا گیا ہے جس سے طلبہ میں علم کی رغبت اور ماحول کی روحانیت و نورانیت میں شب و روز اضافہ ہو رہا ہے اور وسائل و سہولت کی قلت کے باوجود طلبہ و اساتذہ میں بے پناہ جذبہ محسوس کیا جا رہا ہے ۔