الاسلامیہ کی شبوروز


جاڑے میں صبح صادق سے آدھا پون گھنٹہ پہلے طلبہ کو بیدار کر دیا جاتا ہے، طلبہ حوائجِ بشریہ اور وضوء وغیرہ سے فراغت کے بعد تلاوت و مطالعہ میں مشغول ہوتے ہیں اور بعض طلبہ نمازِ تہجد کی بھی پابندی کرتے ہیں اور گرمیوں میں کچھ تاخیر سے جگایا جاتا ہے، نمازِ فجر کے بعد ایک طالب علم ایک دو حدیث مع ترجمہ پڑھ کر سناتا ہے اور صبح کی مأثور دعائیں کہلواتا ہے، اس کے بعد سبھی طلبہ ۲۰؍ منٹ تک قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہیں، پھر تعلیم شروع ہوجاتی ہے، ظہر کی نماز کے بعد دس منٹ تک علمی سوالات کئے جاتے ہیں اور طلبہ ان سوالوں کے جوابات دیتے ہیں، پھر تعلیم میں مصروف ہوجاتے ہیں، عصر کے بعد کوئی طالب علم قرآنِ کریم کی دو تین آیتیں پڑھ کر ان کا ترجمہ سناتا ہے، اور ایک طالب علم اسلاح و تزکیہ سے متعلق کسی کتاب کا کوئی اقتباس پڑھ کر سناتا ہے۔ مغرب تک طلبہ اساتذہ کی نگرانی میں مختلف کھیلوں میں شریک ہوتے ہیں، اس کے لیے ادارہ کی طرف سے فٹ بال اور والی بال فراہم ہے، کھیل سے فارغ ہونے کے بعد طلبہ دس منٹ قبل مسجد میں حاضر ہوجاتے ہیں اور مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد اوابین پڑھ کر ایک طالب علم شام کی مأثور و منقول دعائیں پڑھاتا ہے اس کے بعد سورۂ واقعہ کی تلاوت کرکے تمام طلبہ تکرار و مطالعہ میں منہمک ہوجاتے ہیں، پھر عشاء کے بعد درجۂ حفظ کا ایک طالب علم قرآنِ کریم کا ایک رکوع با تجوید سناتا ہے، اس کے بعد گیارہ بجے رات تک سبھی طلبہ اساتذہ کی نگرانی میں مذاکرہ و مطالعہ کرتے ہیں۔ اور یہ بات کسی پر مخفی نہیں ہے کہ بے حیائی اور برائی جس تیزی کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے اس کا مقابلہ اس سے کہیں زیادہ قوت کے ساتھ کرنا سخت ناگزیر ہے اور دن بہ دن طلبہ اخلاقی حالات کے اعتبار سے پست تر ہوتے جارہے ہیں۔ ضرورت تھی اس بات کی کہ اکابر و اہل اللہ کے طرز پر بطور ’’تریاق‘‘ کچھ عمل کئے جائیں اور اپنی اصلاح باطن کی فکر کے ساتھ امت کے لیے عمومی ہدایت، صلاح و فلاح کی صداء رب مجیب کی بارگاہ میں لگائی جائے۔ الحمدللہ ادھر چند مہینوں سے پابندی کے ساتھ شبِ جمعہ میں بعد نمازِ عشاء ’’چہل صلوٰۃ و سلام‘‘ پڑھ کر (جو کتابی شکل میں چھپی ہوئی ہے) اجتماعی دعاء کی جاتی ہے۔ اور بین طور پر اس کے فوائد محسوس کیے جا رہے ہیں۔